حج، اسلامی اتحاد کا مظہر ہے، ادارہ حج کے عہدہ داروں سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی نے حج کو ایک عظیم اور قیمتی موقع سے تعبیر کیا اور فرمایا: مسجد الحرام، مسجد النبی، ائمہ اطہار اور صحابائے کرام کی قبروں میں حاضری کے موقع کو ایمان و روحانیت و خضوع و خشوع کے سرمائے میں اضافے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا: حجاج کرام محتاط رہیں کہ یہ قیمتی موقع کم ارزش دنیوی کاموں میں صرف نہ ہو جائے۔ آپ نے اس کم نظیر موقع کی ایک اہم خصوصیت عالم اسلام کے پیکر عظیم سے رابطے کی برقراری بتایا اور فرمایا: ایرانی حاجی اپنے حرکات و سکنات، رفتار و گفتار اور اسلامی آداب پر مشتمل اپنے مزاج کے ذریعے دیگر ممالک کے حاجیوں کو اسلامی جمہوریہ ایران سے متعارف کرا سکتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے آداب اسلامی اور تربیت قرآنی کے ایک مظہر کے طور پر مسجد الحرام اور مسجد النبی میں ہونے والی نماز جماعت میں پابندی سے شرکت کا نام لیا اور فرمایا: ہمارے عظیم امام (خمینی رہ) جو ایک بیدار و آگاہ انسان تھے خانہ خدا کے زائروں سے نماز جماعت میں شرکت کی سفارش کیا کرتے تھے کیونکہ یہ عمل اتحاد کی نمائش کا حقیقی مصداق ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے دعائے کمیل کے پروگرام اور مشرکین سے اظہار برائت کے عمل کو حج کے موقع کی بہترین تبلیغ قرار دیا اور فرمایا: حج اتحاد کا مظہر ہے کیونکہ حج میں اللہ تعالی کی ولایت کا اظہار اور غیر خدا کی ولایت کا انکار ہے جسے برائت کہتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے موجودہ حالات میں اسلامی اتحاد کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: عراق، پاکستان اور وطن عزیز کے کچھ مقامات پر جو خونریز واقعات رونما ہو رہے ہیں شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و اختلاف ڈالنے کے لئے ہیں بنابریں مسلمانوں کے اتحاد کے موضوع پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو لوگ یہ دہشت گردانہ اور تشدد پسندانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں براہ راست یا بالواسطہ اغیار کے مہرے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: حجاج بیت اللہ الحرام، جو کچھ عالم اسلام بالخصوص عراق، افغانستان، فلسطین اور پاکستان کے کچھ علاقوں میں رونما ہو رہا ہے اس کے سلسلے میں لا تعلق نہیں رہ سکتے۔
آپ نے فرمایا: حج میں اسلامی اتحاد کے خلاف اقدامات اور پرچم اسلام کو جو ایران میں لہرا رہا ہے نقصان پہنچانے والی کوششوں کے سلسلے میں بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے شیعہ مسلمانوں کے خلاف انجام دی جانے والی توہین آمیز حرکتوں اور حتی جنت البقیع، مسجد الحرام اور مسجد النبی میں انجام دئے جانے والے گستاخانہ اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ اقدامات اتحاد کے خلاف اور امریکا اور اغیار کی خفیہ ایجنسیوں کے اہداف و خواہشات کی سمت میں ہیں، سعودی عرب کی حکومت کو چاہئے کہ ان اقدامات کا سد باب کرنے کے سلسلے میں اپنے فریضے پرعمل کرے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ادارہ حج کے تمام عہدہ داروں بالخصوص حجت الاسلام ری شہری اور جناب خاکسار قہرودی کی حج کے سلسلے میں کوششوں کی قدردانی کی اور فرمایا: قافلوں کے انتظامی، سیاسی اور ثقافتی پروگرام وقت کی ضرورتوں کے مطابق ترتیب دئے جائیں۔
اس موقع پر ایرانی حاجیوں کے سرپرست اور ولی فقیہ کے نمایندے جناب ری شہری نے حج کی تیاریوں کے سلسلے میں کچھ تفصیلات بیان کیں۔ اسلامی ثقافت و ہدایت کے وزیر سید محمد حسینی اور ادارہ حج کے سربراہ خاکسار قہروردی نے بھی حج کی تیاروں اور پروگراموں کے بارے میں بریفننگ دی۔

/ 0 نظر / 18 بازدید