قیام پاکستان کے بعد اردو غزل کی کروٹیں

  یہ بات عام مشاہدے کی ہے کہ وہ تمام واقعات شعر و ادب کو متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں جو انسانی زندگی پر اپنے مثبت اثرات مرتسم کرتے ہیں ۔ برصغیر کی تقسیم نیرنگی سیاست کا کرشمہ ہو یا کسی قوم کی طویل جدوجہد کا ثمر، یہ مظلوم مسلمانوں کی دعاوں کا نتیجہ ہو یا عالمی استعمار کی ریشہ دوانیوں کا رد عمل ، یہ تخلیق کاروں کی ریاضت کامنطقی نتیجہ ہو یا ہمارے سیاسی اور مذہبی عمائدین کی مسلسل جدوجہد کا شیریں پھل، ایک بات بہرحال طے ہے کہ ہندووں اور انگریزوں کے گٹھ جوڑ اور ریشہ دوانیوں کے باوجود برصغیر کا دولخت ہونا اور پاکستان کا وجود میں آ جانا ایک بہت بڑے معجزے سے کم نہیں اور ایسے معجزے روز روز نہیں ہوا کرتے ہیں بقول ظفرعلی خاں:

کوئی دن جاتا ہے پیدا ہو گی اک دنیا نئی

خون مسلم صرفِ تعمیر جہاں ہو جائے گا

     برصغیر کی تقسیم نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح شعر و ادب کو بھی بے حد متاثر کیا ۔ اس عہدکے شاعروں کے لےے سب سے بڑا مسئلہ نقل مکانی کا تھا۔ جہاں بچپن اور جوانی گذری ہو، جس خطے سے تلخ اور شیریں یادیں وابستہ ہوں اسے خود چھوڑنا سوہان روح تھا مگر فیصلے کا لمحہ آن پہنچا تھا ۔ لہذا دہلی ، لکھنو، رام پور ، انبالہ، امرتسر ، جالندھر ، حیدر آباد ، دکن ، امروہہ ، الہ آباد اور دیگر علاقوں سے شعرا اور ادبا نقل مکانی کرکے اپنی آنکھوں میں حسین خواب سجائے پاکستان تشریف لے آئے ۔ ذہنی و قلبی اس کشمکش کو لکھنو سے کراچی تشریف لانے والے ایک معروف شاعر آل رضا لکھنوی نے بڑے دلگداز انداز میں بیان کیا ہے ۔ آپ ان اشعار میں موجود درد اور کرب کے ساتھ ساتھ شاعر کے ذوق و شوق نقل مکانی کو بھی دیکھیے:

 

یوں تو بے تابی میں اس محفل سے اٹھ آنا پڑا

کیا کہیں پھر کیا ہوا، جب دل کو سمجھانا پڑا

موت ہی جس کو چھڑا سکتی تھے وہ دلکش دیار

یوں چھٹا ہم سے کہ ہم کو خود ہی چھوڑ آنا پڑا

     قیام پاکستان کے بعد مہاجر شعرا اور ادبا اپنے ساتھ مختلف علاقوں کی شعری و ادبی روایات لے کر پاکستان وارد ہوئے ۔ اسی بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجے کہ مختلف ذائقوں کے دریا ایک عمیق سمندر میں آ کر یکجا ہو گئے ۔اس طرح ابتدائی طور پر پاکستان کی ادبی ، شعری اور تہذیبی صورت حال کوئی حتمی شکل اختیار نہ کر سکی ۔ بعد میں یہی مختلف النوع اور ہمہ رنگ شعری و ادبی ذائقے پاکستان کی مجموعی ادبی صورت حال کے لیے مفید ثابت ہوئے۔

     قیام پاکستان کے بعد فوری طور پر ہماری شاعری میں دو طرح کے رجحانات اجاگر ہوئے ۔ ایک جانب تو ہجرت کرنے والے شعرا نے اپنے ذاتی تاثرات کو بنیاد بنا کر غم و الم کی روشنی میں ہر چیز کو دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اردو شاعری میں ہجرت ، درد و غم ، یاسیت اور اداسی جیسے موضوعات عام ہو گئے اور ان سے تعلق رکھنے والے الفاظ مثلاً راکھ، رات ، صحرا ، خزاں ،تاریکی ، پیاس ، نیزہ، اندھیرا ، خاک وغیرہ تلازمات بن کر ہماری شاعری کا اثاثہ بنے ۔ ناصر کاظمی کی شاعری نے بطور خاص ان کیفیات کو اجاگر کرنے میں اپنا زور صرف کیا اور نوجوان نسل کو اپنے اشعار سے خوب خوب متاثر کیا۔

     قیام پاکستان کے بعد ایک ایسا لہجہ بھی ہماری شاعری کا جزو اعظم بنا جو استعماری قوتوں کو للکار نے کا سبب بناتھا ۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر رہنے والے شعرا نے پاکستان میں بھی بلند آہنگ شاعری کو رواج دینے کی بلیغ سعی کی۔ جوش ملیح آبادی نے اپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعہ زندہ اور پائندہ قوم کا تصور ابھارا ۔ ان کی اس روایت کو ظہیر کاشمیری نے شاعری میں تروتازہ رکھا۔ انہوں نے استعمار کے خلاف اشعار بھی لکھے اور تقاریر بھی کیں ۔ ان شعرانے ظلم و تمرد کے خلاف جو علم بغاوت بلند کیا تھا وہ آج بھی سربلند ہے۔

     تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کے طور پر دیکھنے کا رجحان عام ہو گیا ۔ ”پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللّٰہ“ کانعرہ تو بعد میں تخلیق ہوا لیکن اسلام سے والہانہ محبت کا جذبہ ہر محب وطن پاکستانی کی روح میں سمایا ہوا تھا ۔ اس طرز احساس نے دو طرح کے رویے پیدا کیے ۔ ایک تو وطن سے والہانہ محبت کے جذبات پیدا ہوئے اور پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے عزم کا اعادہ شعری پیرائے میںکیا جانے لگا۔ معروف بزرگ شاعروحید الحسن ہاشمی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ :

ہیچ ہر رنگ ہے اس رنگ چمن کے بدلے

ہم تو جنت بھی نہ لیں اپنے وطن کے بدلے

     وطن سے محبت کے نتیجہ میں ”پاکستانی ادب “اور ”پاکستانی شاعری“ کی اصطلاحات وضع کی گئیں جو بعد میں مختلف شکلوں میں اپنا چولا بدلتی رہیں۔ اسلام سے محبت کا دوسرا رخ اس وقت ہمارے سامنے آیا جب اسلامی روایات و حکایات کو شعری روپ دیا جانے لگا اور دینی رویوں کی آبیاری کے لیے ساز و سامان مہیا کیا جانے لگا ۔ حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام لکھ کر ایک مرتبہ پھر اسلامی شعائر کونئے روپ میں اجاگر کرنے کی شعوری کاوش کی ۔دینی روایات کو شاعری میں محفوظ کرنے کے حمد و نعت اور مرثیہ ، سلام اور نوحہ کوفروغ دینے کی کوشش کی گئی ۔ظفر علی خان کی نعتوں نے پاکستان میں نعتیہ افکار کو مقبول عام بنانے میں خاصا اہم کردار ادا کیا اور دیگر شعرا کے ساتھ حفیظ تائب نے اس روایت کو سرخرو کیا ۔ عزائی شاعری میں جوش ، آل رضا، نسیم امروہوی ، قیصربارہوی اور وحید الحسن ہاشمی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ ان شعرانے کربلا کو آفاقی قدروں سے ملانے کی کوشش کی اور کربلا ظلم و تمرد کے خلاف ایک عالمی استعارہ بن کر ابھرا اور قیصر بارہوی کا یہ شعر دینی سرمائے سے مالامال شعرا کا منشور قرار پایا:

کربلا جس کی بلندی ہے وہ مینارا ہے

مرثیہ سب سے بڑی فتح کا نقارا ہے

     قیام پاکستان کے بعد ہماری شاعری میں ”رومانوی رجحان “ کو بیحد پذ یرائی ملی۔ اختر شیرانی اور ساحر لدھیانوی کی شاعری نے نوجوانوں کو عموماً اور عام افراد کو بطور خاص متاثر کیا ۔ مصطفی زیدی ، احمد فراز،امجد اسلام امجد اور اسی قبیل کے سینکڑوں شعرا آج بھی اس رومانوی شعری روایت سے جڑے ہوئے ہیں ۔ آپ عصر حاضر کے نوجوان شعرا کے مجموعوں کا مطالعہ فرما لیجیے ان میں محبت اور حسن و عشق کی نیرنگیاں آج بھی جلوہ گر ہیں۔

     پاکستان میں شاعری کی ایک دانشمندانہ روایت بھی جلوہ گر رہی ہے ۔ فیض احمد فیض کو بعض ناقدین محض رومانوی شاعر کے طو ر پر پیش کرنے پر اکتفا کر لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ فیض نے شاعری میں دانش و برہان کو رچا بسا کر پیش کیا۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری میں رومانویت کے ساتھ ساتھ احتجاج و انقلاب بھی موجزن ہے ۔ فیض کی اس علمی و فکری روایت کو دانشمندانہ سطح پر اجاگر کرنے والوں میں مجید امجد ، سجاد باقر رضوی ، جیلانی کامران اور شہزاد احمد بطور خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔ سجاد باقر رضوی نے اپنی شاعری میں تہذیبی رویوں کی شکست و ریخت کو موضوع بنایا ہے اور مرتی ہوئی اخلاقی قدروں پر ماتم کیا ہے ۔ ان کا یہ شعر ہمارے پورے تہذیبی زوال کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے:

یہ دھوپ چھاوں ہے دنیا کی خود مرا سایا

مرے قریب سے گذراہے اجنبی کی طرح

     مجید امجد کی شاعری میں فطرت سے لگاو ملتا ہے ۔ ان کے موضوعات میں تنوع ہے اور ہر جگہ سوچ اور فکر کے نئے نئے زاویے قارئین کے سامنے اجاگر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجید امجد کی شاعری نئے امکانات سے مالامال ہے ۔ جیلانی کامران نے اسلامی مابعد الطبیعیاتی نظام کے احیا اور فروغ کے لیے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کی کوشش کی ۔ عصر حاضر میں شہزاد احمد کو دوسرے تمام شعرا پر تفوق حاصل ہے کہ وہ متداولہ علوم پر دسترس رکھتے ہیں ۔ نفسیات،فلسفہ اور دیگر سماجی علوم سے انہیں رغبت ہے ۔ وہ اپنی شاعری میں ان علوم کو مہارت سے پیش کرنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں ۔ آپ ان کے شعری دواوین کا عمیق نگاہی سے مطالعہ کیجیے تو آپ دیکھیں گے کہ ان میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی ۔ وہ اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کے باعث عام موضوع کو خاص اور خاص موضوع کو عام بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔

     پاکستان میں شاعری کو اسلوبیاتی سطح پر مختلف شعرا نے نت نئے ذائقوں سے متعارف کرایا۔ آپ پابند نظم سے آزاد نظم بلکہ نثری نظم تک کا مطالعہ فرما لیجیے۔ راشد، امجد، میرا جی اور مبارک احمد نے صرف اسلوب ہی نہیں ہیئت اور موضوعات کو بھی جدید عہد کی ضروریات کے مطابق تبدیل کرنے کی کامیاب کوششیں کیں۔ پاکستان میں ظفر اقبال کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ انہوں نے روایت میں رہتے ہوئے بھی اردو غزل میں اسلوبیاتی سطح پر نت نئے تجربات کیے ۔انہیں پذیرائی بھی ملی اور بسا اوقات ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم انہوں نے اپنا اسلوبیاتی سفر جاری رکھا اور یہ سلسلہ آج بھی اسی آ ب و تاب سے جاری ہے۔ ظفر اقبال کی اقتدامیں غزل سے ہٹ کر آزاد غزل ، نثری غزل، مسلسل غزل اور رجوعی غزل کے تجربات بھی کیے گئے جو مقبولیت عام کی سند تو حاصل نہ کر سکے لیکن شعری تاریخ میں آج بھی ان کے اثرات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

     پاکستان میں شعری روایت کو استحکام بخشنے میں شاعرات کا کردار بھی مثالی رہا ہے ۔ اداجعفری ، عرفانہ عزیز ، فہمیدہ ریاض ، کشور ناہید ، پروین شاکر ، شاہدہ حسن وغیرہ نے اپنی شاعری میں نسائی جذبات و احساسات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ۔ آپ ادا جعفری کے درج ذیل دو اشعار ملاحظہ فرمائیے اور دیکھیے کہ انہوں نے کتنے سلیقے سے اپنے جذبات شاعرانہ انداز میں پیش کیے ہیں:

کیا جانیے کس بات پہ مغرور رہی ہوں

ہر چند کہ جس رہ پہ چلایا ہے چلی ہوں

تم پاس نہیں ہو توعجب حال ہے دل کا

یوں جیسے کہ کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں

     فہمیدہ ریاض نے بلند بانگ انداز میں ”نسائیت“ کے تمام رخوں کو پیش کرنے کی”سعادت“ حاصل کی ۔ کشور ناہید نے زنانہ شاعری کو مردانہ لباس پہنانے کی شعوری کاوش کی ۔ پاکستان میں جس شاعرہ کو سب سے زیادہ شہرت عام حاصل ہوئی وہ پروین شاکر تھیں۔ انہوں نے اپنے عمو حضرت احمد ندیم قاسمی مرحوم کے مشوروں کو حرزِ جاں بنائے رکھا اور غالباً اسی باعث ان کی شاعری رکاکت و ابتذال سے پاک رہی ۔ عصر حاضر میں بے شمار شاعرات میدان شاعری میں طبع آزمائی کر رہی ہیں اور اپنے افکار و نظریات سے نئے نئے پھول تراشنے میں مصروف ہیں۔

     پاکستان کو قائم ہوئے ساٹھ برس سے زیادہ کاعرصہ گذر چکا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس پورے دورانیہ میں ہم اپنی کوئی شعری روایت بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں؟ کیا بین الاقوامی سطح پر ہمار ا کوئی شاعر اپنے آپ کو تسلیم کراسکا ؟ کیا ہم اپنے شعری موضوعات کو عالمی ادب کے سامنے پیش کر سکتے ہیں؟ اگر ان تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں تو یہ امر انتہائی تشویش نام بلکہ الم انگیز ہے ۔ یہ دنیا اب ایک ”گلوبل ہٹ“ بن چکی ہے ۔ ہمارے شاعروں کو چاہیے کہ وہ ذاتی مسائل و معاملات سے کنارہ کش ہو کر بین الاقوامی صورتِ حال کا بغور جائزہ لیں اور اپنی شاعری میں ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کو پیش کریں جو عالمی سطح پر قابل قبول ہوں۔ اسی طرح اپنی روایات کو زندہ اور تابندہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس میں اپنا تازہ فکری لہو شامل کریں ۔ بزرگوں کی باتوں کو محض دہرادینا روایت کی پاسداری نہیں ہے ۔ شاندار روایت قائم کرنے کے ماضی کے ورثہ کے ساتھ ساتھ ہمارے شعرا کونئے عالمی امکانات کو بھی پیش نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اردو زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے اپنے ممکنہ وسائل بروئے کار لائیں تاکہ ہمارے اسلاف کاشعری ورثہ محفوظ رہ سکے ۔ اگر ہم نے ساٹھ برس گذر جانے کے باوجود شعر و ادب کو جدید تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش نہ کی تو ہمارا تخلیقی سرمایہ فٹ پاتھ پر دھرا ہوگا اور نوجوان شاعر عرفی ہاشمی ہم سب سے شکوہ سنج ہو گا کہ:

کیا زندگی کا ایسے ادب سے نباہ ہو

فٹ پاتھ جس کی آخری ،آرام گاہ ہو

http://islamabad.icro.ir/?m=56890&c=44847&t=3

/ 0 نظر / 199 بازدید