مولانا رومی اور حضرت شمس تبریز

642ھ بمطابق 1244ءسے پیشتر کہ مولانا رومی کی مسند نشینی فقر کی تاریخ اسی سال شروع ہوتی ہے ، ان کی شہرت ، علوم معقول و منقول میں مہارت کے باعث نزدیک و دور تک پھیل چکی تھی ۔ وہ علوم دینیہ کا درس دیتے تھے ۔ وعظ کرتے تھے ، فتوے لکھتے تھے اور سماع سے سخت دوری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ وہ زندگی کی چھتیس بہاریں گذار چکے تو ان کی زندگی کا دوسرا دور ایک مرد پراسرار شمس الدین بن علی بن ملک دادتبریزی کی ملاقات سے آغاز پایا جن کی ذات میں حد درجہ جاذبیت تھی۔یوں تو اس سلسلے میں روایتی انداز نے دل کھول کرتا نا بانابنا ہے پھر بھی یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ مولانا رومی کی شمس تبریز سے ملاقات نے کایا ہی پلٹ کر رکھ دی ۔ تمام نقاد اور مورخ یک کلمہ ہو کر تحریر کرتے ہیں کہ شمس تبریز علوم ظاہری میں ماہر ، خوش کلام، شیرین زباں اور ازیںبالاتر آنکہ جذب و سلوک کی منزلیں طے کر چکے تھے۔ وہ درویشوں کی تلاش میں شہر بہ شہر گھومتے پھرتے تھے ۔ یہی تلاش انہیں قونیہ میں بھی لے آئی ۔ مولانا نے شمس کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہیں گھر لے گئے ۔ مختلف بیانات سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ حضرت شمس دو برس کے لگ بھگ آپ کے ساتھ رہے ۔ ایک بار وہ چلے گئے تھے پھر انہیں لایا گیا ۔ دوسری دفعہ جا کر واپس نہ لوٹے ۔ ایک روایت کے مطابق قتل کر دیے گئے ۔ مولانا رومی کی شمس تبریز سے ملاقات نے ان کی زندگی ،جس میں قبل ازیں شروع سے ماورا کوئی چیز داخل نہ ہوئی تھی، ایک ایسا پرشور انقلاب پیدا کیا کہ وہ علوم معقول و منقول سے صرف نظر کرکے تصو ف سلوک اور عشق و معرفت کے عقائد اور مسائل کی جانب متوجہ ہو گئے ۔ ان کی یہ حالت ہو گئی :”زور را بگذاشت او زاری گرفت “ اور ”دل خود کام را از عشق خوں کرد“

     نتیجةً انہوں نے” نغمہ نے“ کو ایسے انوکھے اور پرکشش انداز میں سنا کہ پھر اسی کے ہوگئے ۔ ان کی رہنمائی شمس تبریز نے ایسے سرگرم انداز میں فرمائی کہ رومی نے ان کی توصیف میں نہایت دلفریب اور اچھی غزلیں لکھیں جن سے جذبے کی گہرائی اور گیرائی کا نشان ملتا ہے ۔ ان کی غزل دل کی زبان بنی ۔ آپ بیتی اور دل پر لگے ہوئے عشق کے داغ بیان ہوئے۔

     مولانا کا دیوان جسے اکثرغلطی سے ”دیوان شمس تبریز“ سمجھا جاتا ہے اس بزرگ سے مولانا کی عقیدت و ارادت کی لازوال یادگار ہے ۔ دیوان میں شمس کا نام بار بار ایسے آتا ہے کہ صاف پتہ چلتا ہے کہ شاعر کے علاوہ کوئی اور شخص مراد ہے ۔ جیسے

زبی صبری بگویم شمس تبریز

چنینی و چنانی من چہ دانم

عاشقا از شمس تبریزی چو ابر

سوختی لیکن ضیا آموختی

شمس الحق تبریزی شاہ ہمہ شیرا نست

در بیشہ جان ما شیر وطن دارد

شمس تبریزی نشستہ شاھوار و پیشِ او

شعر من صفہازد ہ چون بندگان ِاختیار

بی اثرھای شمس تبریزی

از جہان جز ملال ننماید

شمس تبریزی برای عشقِ تو

برگشادم صد در از دیوانگی

شمس تبریز کہ سرمایہ لعلست و عقیق

ما ازو لعل بدخشان و عقیق یمنیم

در فراق شمس تبریزی از آن کاھیدتن

تا فزاید جانہا راجانفزایی سیر سیر

خداوند شمس دین آن نور تبریز

کہ ہر کس را چو من چاکر نگیرد

شمس تبریر پی نور تو زان ذرہ شدیم

تاز ذرات جہان در عدد افزون باشیم

شمس تبریز شہنشاہ ہمہ مردانست

ما ازآن قطب جہان حجت و برہان داریم

شمس تبریز کم سخن بود

شاھان ہمہ صابر و امینند

مولانا رومی مثنوی معنوی میں بھی حضرت شمس کا نام بہت عزت و احترام سے لیتے ہیں ۔ مثلاً :

شمس تبریزی کہ نور مطلقست

آفتابست و ز انوار حق است

شرح این ہجران و این خون جگر

این زمان بگذار تا وقتِ دگر

     مولانا رومی شمس تبریزی کو مختلف القابات سے پکارتے ہیں جیسے نور اولیا ، نور دلہا، شاہ عشق، روی قمر، خسرو جان ، شاہ خوش آیین ،حق آگہ، سخن بخش زبان من ، شاہ شیراں ، نور تبریز، خسرو عہد ، شہ تبریز، سلطان سلطانان جان، شاہ جہانہا، وغیرہ۔

     کلیات شمس تبریزی (چاپ دوم ، 1341ش، تہران) میں 417 صفحہ پر ایک غزل (سولہ شعروں پر مشتمل) ملتی ہے جس میں حضرت شمس کو مختلف لقبوں(مثلاً دُریتیم، نقدِ عیّار، عین انسان، فخر کبار، جام جم، بحر عظیم، سرو رواں وغیرہ) سے یاد کیا ہے ۔ اس غزل کا مقطع ہے:

ای دلیل بی دلان وای رسول عاشقان

شمس تبریزی بیاز نہار دست از ما مدار

     دیوان شمسعالم شور و جذبہ کا حاصل ہے جو بیکراں سرمستی اور پایکوبی کے ساتھ شمس الدین شمس الحق تبریزی کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس مجموعہ کو شعر و زیبائی کا اعجاز قراردیا جا سکتا ہے ۔ ان غزلوں میں مے عشق و زیبائی کو ایسی بدیع رنگ آمیزی، ایسی شور انگیز اور سحر انگیز عبارات اور اصطلاحات میں سمویا گیا ہے کہ گاہے واحد غزل ہی رند کو رندانہ ہا و ہو اور زاہد کو زاہدانہ انداز فکر پر اکساتی ہے ۔ رومی نے کلیةً ان غزلیات کو شعور انگیز عشق اور عجیب روحانی کیفیات کے زیر اثر صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے جو تاریخ ادبیات جہان میں بے نظیر ہیں ۔ سوز دل کے متعلق فرماتے ہیں:

عشق مہمان شد بر این سوختہ

یک دلی دارم پیش قربان کنم

بادہ محبت سے مخمور ہیں :

مخمور توام ، بدست من دہ

آن جام شراب کوثری را

وارفتگی عشق:

شب وصال کی لاجواب تصویر:

باز در آمد ببزم مجلسیان دوست دوست

گرچہ غلط می دھدنیست غلط اوست اوست

عمر گل چیدن است امشب می خوردن است امشب

اضطراب عشق اورانتظار کے جذبات کی کامیاب ترجمانی:

کرانی ندارد بیابان ما

قراری ندارد دل و جان ما

دل عاشق ہر وقت حضور یار کا متمنی:

یک لحظہ ز کوی یار دوری

در مذہب عاشقان حرامست

باد عشق سے درخواست کہ اس جانب سے بھی گذر:

ای باد خوش کہ از چمن عشق می رسی

برمن گذر کہ بوی گلستانم آرزوست

     بعض اہل علم حضرات کی رائے ہے کہ دیوان شمس تبریز ی کا جتنا بھی مطالعہ کیا جائے اتنا ہی وہ زیادہ تازگی بخشتا ہے اور لگا تار فیض پہنچانے والا بنتا ہے ۔ انسان کی ملال پذیر طبیعت سے کوفت کو دور کرتا ہے اور انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس قدر انسانی فطرت کی تعبیر شاید ہی کسی اور شاعر میں ہو جس قدر مولانا رومی کے کلام میں پوشیدہ ہے ۔ جوش عزم ملاحظہ ہو:

مابه فلک میرویم عزم تماشا کراست

ایک اور شعر دیکھیے:

بشاخ زندگی ما نمی زتشنہ لبی است

تلاش چشمہ حیوان دلیل کم طلبی است

علامہ اقبال کے ہاں بھی تخیل میں یہی زور اور بیان میں یہی جوش ہے۔ خود کہتے ہیں:

                                                                مطرب، غزلی، بیتی از مرشد روم آور

                                                                تاغوطہ زند جانم در آتش تبریزی

     مولانا رومی کے کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی عاشق اپنے معشوق کی تعریف کر رہا ہے لیکن اس میں جنسی کشش معدوم ہے۔ یہ جو دعوی کیا جاتا ہے کہ ساری محبت جنسی کشش پر مبنی ہے یہاں اس کے برعکس جنس اور بدن قطعی طو ر پر ختم ہو جاتا ہے ۔ عشق اصلاً اور طبعاً ذہنی اور روحانی اتصال کانام بن جاتا ہے ۔ اس مقام کا ترفع اس حد تک ہے کہ جنس بالکل خارج از بحث ہو جائے اور کشش محض روحانی رہ جائے ۔ اس مقام پر مولانا کی کئی غزلیں ہیں۔ کہتے ہیں:

دوئی را چون برون کردم دو عالم را یکی دیدم

یکی بینم ، یکی جویم ، یکی دانم،یکی خوانم

الا ای شمس تبریزی چنان مستم درین عالم

کہ جز مستی و سرمستی دگر چیزی نمیدانم

٭٭٭

رسید مژدہ بشامست شمس تبریزی

چہ صبحہا کہ نماید اگر بشام بود

٭٭٭

جز شمس تبریزی مگو جز نصر و پیروزی مگو

/ 0 نظر / 266 بازدید