فلسطین ،اقبال کی نظر میں

 فلسطین، اقبال کی نظر میں“ میرے اس مقالے کا عنوان ہے۔ بادی النظر میں شاید یہ بات عجیب معلوم ہو کہ ایک ایسی شخصیت جو صہیونستی غاصب ریاست کی تشکیل سے پہلے ہی اس دنیا سے جاچکی تھی اس کے افکار، گفتار اور نوشتار نے کس حد تک اس واقعہ کی کامیاب پیش بینی کی اور اس سلسلے میں اس کی رہنمائی موجودہ دور کے لوگوں کے لیے سمت دہندہ ہے۔

     حق یہ ہے کہ علامہ اقبال نے ایک روشن خیال متعہد اور دور اندیش مصلح کے طور پر اسلامی معاشرے کی مصلحتوں کو اپنی تلاش اور جدوجہد کا مطمح نظر قرار دے رکھا تھا اوراپنے اردگرد موجود لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں وقف کررکھی تھیں۔

     دنیا اور بین الاقوامی سیاست سے متعلق اقبال کی شناخت نے معاصر مسلمانوں کے لیے راہ کی دشواریاں اور اس کی پرخطر کھائیوں اور گھاٹیوں کو واضح کردیا اور اس کے نتیجے میں ان مناسب حکمت عملیوں کو، جو ان کی عقل رسا سے ظہور پذیر ہوئیںانہوں نے اپنے گہرے عشق سے ممزوج کرکے اپنے اشعار و مکتوبات کے ذریعے دوسروں کو منتقل کیا۔

     اٹھارویں سے بیسویں صدی تک اہل مغرب کی مہم جوئی ،نفع اندوزی اور تفوق طلبی جس کی وجہ سے ان کے طمع کے تیز اور نوکیلے دانت مشرقی ممالک کی سرزمینوں میں گڑھے ہوئے تھے، اور دوسری طرف مسلمانوں کی عدم آگہی اور بے توجہی نے اقبال کو آئندہ نسلوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان کیا ہوا تھا۔ اسی دوران اسلامی ممالک کے سربراہوں کی نالائقیاں، خودفروشیاں اور غداریاں تھیں کہ وہ اس بات کے لیے تیار تھے کہ کسی قیمت پر بھی اپنے ملکوں کو اغیار کے ہاتھ بیج دیں اور اپنی چند روزہ طاقت، مال اور حکومت کو باقی رکھیں اور اس طرح مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ بے پناہ اور بے آسرا کردیں اور یہی فکر یں اور اندیشے اس آگاہ مصلح کو شب و روز مشغول کیے رکھتے تھے۔ ان مسائل اور مشکلات کے حل کی راہ جو اقبال نے دکھائی وہ سب کے لیے اظہر من الشمس اور آشکار ہے یعنی خود شناسی یا اپنے آپ کو پالینا اور علمی و تمدنی پس ماندگی کو دور کرنا ۔ان کا کہنا تھا :

گفت جانا محرم اسرار شو

خاور از خواب گران بیدار شو

ہیچ قومی زیر چرخ لاجورد

بی جنون ذو فنون کاری نکرد

احتساب خویش کن از خود مرو

یک دو دم از غیر خود بیگانہ شو

تا کجا این خوف و وسواس و ہراس

اندر این کشور مقام خود شناس

شعلہ ای از خاک آن باز آفرین

آن طلب، آن جستجو باز آفرین

     اس مجموعی خوف و اندیشہ کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے خاص موضوعات بھی تھے جنہوں نے اقبال کے فکر کو اپنی طرف مبذول کررکھا تھا۔ ان میں سے بعض قومی، بعض علاقائی اور بعض بین الاقوامی تھے۔

     ان اہم ترین فکروں اور اندیشوں میں سے ایک موضوع فلسطین کا تھا۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ عالم اسلام کے عین وسط میں ایک صہیونسٹی حکومت کا وجود میں آنا ایک تیس سالہ سازش کا ماحصل تھا جس میں روس، امریکا اور انگلستان کے سیاستدانوں نے ،جو اس سازش کے اہم ترین عامل اور کارگزار تھے حصہ لیا اور جس کا ایک نتیجہ عثمانی سلطنت کا سقوط اور عالم اسلام کے مختلف حصوں میں نسلی، لسانی اختلافات پیدا کرکے اپنے لیے ایک مستقر اور دستاویز کا تیار کرنا تھا۔    

     اگرچہ عثمانی سلطنت اس دور میں اسلام کے ایک ظاہری پوست کی حامل تھی جبکہ تفرقہ سازیوں اور استعمار زدگیوں نے اس کے بعد مسلمانوں کی حالت اور بھی بدتر کردی۔ علامہ اقبال نے عالم اسلام کی پہلی اور بعد کی حالت سے متعلق اپنی پریشانی اور اضطراب کا اظہار ہر کوچہ و خیابان میں کیا ان کا کہنا تھا:

اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے

ہر ملت مظلوم کا یورپ ہے خریدار

یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے

بجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار

جلتا ہے مگر شام و فلسطین پہ مرا دل

تدبیر سے کُھلتا نہیں یہ عقدہدشوار

ترکان جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر

بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار

ایک اور مقام پر شاہان وقت میں سے ایک کی غداری کا گلہ کرتے ہیں کہ اس نے مغربی استعمار سے مل کر عثمانی ترکوں کے خلاف سازش کی:

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی(ص)

خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

آگ ہے، اولادِ ابراہیم(ع) ہے، نمرود ہے!

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے؟

     اقبال نے عوام کے لیے ایجاد کیے گئے اس پرفریب نظریے کو رد کردیا کہ چونکہ یہودی کسی قدیم زمانے میں سالہا سال سرزمین فلسطین میں بود و باش رکھتے تھے اور پھر مدتوں پہلے اسے ترک کردیا اس لیے اس سرزمین پر ان کا ایک تاریخی حق ہے اور ان کو اجازت دی جانی چاہیے کہ فلسطینی مسلمانوں کی زمینوں کو خریدے بغیر ان کے مالک بن جائیں اور وہاں رہائش اختیار کرلیں۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر سابقہ ملکیت اور سکونت کسی کے لیے یہ حق ثابت کرسکتی ہے تو پھر مسلمانوں کو اندلس کی سرزمین پر حق حاکمیت اور حکومت کیوں حاصل نہیں انہیں وہاں سے بے رحمی سے نکال دیا گیا تھا جبکہ یہودیوں نے صدیوں پہلے فلسطین کو خود ترک کردیا تھا مگر مسلمانوں نے نکالے جانے سے پہلے اسپین کو ترک نہیںکیا تھا۔

ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا

     ہرچند کہ یہ موضوع آپ کے لیے نیا ہو تاہم اقبال کے اشعار اور خطوط سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ اس حکیم رہنما نے اس سازش کے واقع ہوجانے سے پہلے ہی اس کی تشخص کرلی اور اس سے بچنے کے لیے پروگرام وضع کیا تھا۔ انہوں نے اس تاریخی سازش یعنی عالم اسلام کے وسط میں ایک سرطانی غدود پیدا کرنے سے نجات حاصل کرنے کی راہ پالی تھی اور زندگی کے آخری لحظات تک اس مقصد کے لیے سرگرم رہے۔ ان کی کاوشوں کے اس سلسلے کو تین حصوں میں بیان کیا جاسکتا ہے:

ان کا عقیدہ تھا کہ:

     ۱- مسلمانوں کو چاہیے کہ تفرقہ انگیزی کی ان تمام حدود سے جو مغربی استعمار نے ان کے لیے بنائی ہیں اجتناب کریں اور وحدت اسلامی کی طرف لوٹ آئیں ۔ وہ معتقد تھے کہ مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ نے جو نیشنلزم یا قومیت کا حربہ استعمال کیا وہ عالم اسلام کے اتحاد کو پار ہ پارہ کرنے کے لیے تھا۔ چنانچہ اس نے اس کے عظیم پیکر سے چھوٹے چھوٹے اور کمزور ممالک نکالے اس لےے کہ نسلی ، قومی اور لسانی سرحدوں کے اجاگر کرنے سے اس کے لیے اسلامی سرزمینوں پر تسلط آسان ہو جاتا ہے ۔ اقبال نے فرمایا ہم سب خواہ کسی نسل و رنگ سے ہوں ہمیں اسلام کی طرف لوٹ جانا چاہیے:

تو ای کودک منش خود را ادب کن

مسلمان زادہ ای ترک نسب کن

بہ رنگ احمر و خون و رگ و پوست

عرب نازد اگر ترک نسب کن

     اسی طرح وہ ایران کی شہنشاہی حکومتی کی اس لیے مذمت کرتے تھے کہ وہ حد سے زیادہ آریائی نسل پر تکیہ کرتی تھی چنانچہ انہوں نے کہا:

باوطن پیوست و از خود در گذشت

/ 0 نظر / 61 بازدید