حدیث ثقلین کی تحقیق

اور اس بات پر تاکید فرمائی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کو ثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان کے ذریعے قرآن کی عترت کے ساتھ اور عترت کی قرآن کے ساتھ ھمراھی کو واضح اور روشن کردیا ھے۔ ([2])

دوسری بات یہ کہ (صراحت کے ساتھ اپنے بعد) امت کی سیاسی اور علمی مر جعیت کو معین فرما دیا ھے۔

اب تک جو کچھ بیان کیا جا چکا ھے اس سے ہٹ کر ھم کو اس بات کی طرح توجہ رھے کہ حدیث ثقلین کی افادیت کسی زمانے سے مخصوص نھیں ھے۔ بلکہ ان دونوں (قرآن و عترت) سے تمسک تمام افراد پر ھر وقت ھر مقام پر ھمیشہھمیشہ واجب ھے۔

ھماری اب تک کی گفتگو اور آئیدہ بحث سے جو غقریب آپ ملا حظہ فرمائیں گے یہ بات روشن ہوجائے گی کہ اس حدیث (ثقلین ) میں غور و فکر اور بحث ان اھم مسائل میں سے ھے جو ھماری اور دوسرے برادران اسلامی کے لئے فائدہ مند ھیں اور اس سے بھت سارے باطل نظریات اور خیالی باتیں (جوکہ اخلاف وتقرقہ کا باعث ہوتی ھیں ) ختم ہو جائے گی۔

حدیث ثقلین کے ذیل میں جن موضوعات پر تحقیق کی گئی ھے وہ حسب ذیل ھیں۔

۱۔ سند حدیث ۲۔ عام ابلاغ کہ جس پر تاکید ہوئی ھے ۳۔ نصوص حدیث ۴۔ مفہوم حدیث

پھلی فصل

سند حدیث ثقلین

حقیقت امریہ ھے کہ حدیث ثقلین تمام مسلمانوں کے نزدیک مورد اتفاق ھے۔ علماء اسلام اور مفکرین نے جومع، سنن، تفاسیر اور تاریخی کتابوں میں اس کو بھت سے طریقوں، معتبراور صحیح سندوں کے ساتھ ذکر کیا ھے۔

کتاب غاتیہ المرام میں انتالس اھل سنت سے اور بیاسی حدیث علماء شیعہ کے حوالے سے درج ھیں۔ ([3])

علامہ سید حامد حسین ھندی (صاحب عبقات ) نے مذھب اربعہ کے علماء میں سے ایک سو نوں ایسے افراد کا تزکرہ کیا ھے جو دوسری صدی ھجری سے لیکر تیرہویں صدی ھجری کے آخر تک کے علماء ھیں۔ ([4])

سید محقق عبدالعزیز طبا طبائی نے دوسری صدی ھجری سے لیکر چودھویں صدی ھجری تک کے مزید ایک سو اکیس علماء کا ذکر کیا ھے۔ ([5])اس طرح علماء اھل سنت کی تعداد جنھوں نے حدیث ثقلین کو نقل کیا ھے تین سو گیارہ (۳۱۱) ہو جاتی ھے۔ ([6])

بھر کیف موردا عتماد اور مشہور و معروف کتابوں نے اس حدیث کو نقل کیا ھے ان اھم کتابوں میں سے بطور نمونہ ان کتابوں کو پیش کیا جاسکتا ھے صحیح مسلم۔ سنن ترمذی۔ سنن الدارمی۔ مسند احمد بن حنبل۔ خصائص نسائی۔ مستدرک الحاکم۔ اسد الغابہ۔ العقد الفرید۔ تذکرة الخواص۔ ذخائر العقبیٰ۔ تفسیر ثعبلی وغیرہ۔۔۔ ([7])

یہ وہ سنی کتب ھیں کہ جن کو حدیث ثقلین کی سند کے حوالہ سے ذکر کیا گیا ھے جبکہ شیعہ کتب اس کے علاوہ ھیں۔ ([8])مرد و عورت اصحاب رسول کی ایک کثیر تعداد نے حدیث ثقلین کی روایت کی ھے۔

ابن حجر نے صواعق محرقہ میں کھا ھے کہ حدیث تمسک (بہ قرآن و عترت ) کی سند کے بھت سارے طریقے ھیں۔ بیس (۲۰)سے زائد اصحاب نے اس کی روایت کی ھے۔ ([9])

عبقات الانوار میں مرد و عورت مل کر چوتیس (۳۴) اصحاب نے اس کو نقل کیا ھے۔ اور ان سب کے اسماء اھل سنت کی کتابوں سے لے گئے ھیں۔ ([10])

چنانچہ (احقاق الحق و غاتیہ المرام ) وغیرہ میں مذکورہ روایتوں اور سندوں کو اس میں بڑھا دیا جائے تومردو زن راوی اصحاب کی تعداد پچاس (۵۰)سے اوپر ہو جاتی ھے۔

ان کے اسماء حسب ذیل ھیں۔

(۱) امیر المومنین(ع) علیه السلام

(۲) امام حسن علیه السلام

(۳) سلمان فارسی

(۴) ابوذر غفاری

(۵) ابن عباس

(۶) ابو سعد خدری

(۷) عبد اللہ ابن حنطب

(۸) جیربن مطعم

(۹) براء بن عاذب

(۱۰) انس بن مالک

(۱۱) طلحہ بن عبد اللہ تمیمی

(۱۲) عبد الرحٰمن بن عوف

(۱۳) جابربن عبد اللہ انصاری

(۱۴) ابوھشیم فرزند تیھان

(۱۵) ابورافع صحابی رسول اکرم (ص)

(۱۶) حذیفہ ابن یمانی

(۱۷) حذیفہ ابن اسید غفاری

(۱۸) حذیفہ ابن ثابت ذوالشھاد تین

(۱۹) ذید بن ثابت

(۲۰) ابوھر یرہ

(۲۱) ابولیلیٰ انصاری

/ 0 نظر / 102 بازدید